اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، برطانوی اخبار گارڈین میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی میں مبینہ ناکامی اور سبکی کے بعد اب کیوبا کے خلاف سخت اقدامات کی طرف بڑھ رہے ہیں تاکہ ایک آسان کامیابی حاصل کرکے اپنی سیاسی ساکھ بحال کر سکیں۔
گارڈین کے کالم نگار اوون جونز نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ امریکی حکومت کی جانب سے کیوبا کے سابق صدر راؤل کاسترو کے خلاف سنگین الزامات پر مبنی فردِ جرم عائد کرنا اس حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے جو ماضی میں وینزویلا کے خلاف بھی اختیار کی گئی تھی۔
مضمون کے مطابق واشنگٹن نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ کیوبا نے امریکی بحری اڈے گوانتانامو کے خلاف کارروائی کے لیے تین سو سے زائد فوجی ڈرون جمع کر رکھے ہیں۔ تاہم گارڈین نے ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے انہیں عراق جنگ سے قبل پیش کیے گئے "وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں" کے بیانیے سے تشبیہ دی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے رواں سال مارچ میں کھلے عام کیوبا پر قبضے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ اسی دوران امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس نیمٹز کو بحیرہ کیریبین میں تعینات کیے جانے کو بھی اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔
مضمون میں جرمن چانسلر فریڈرش مرٹس کے اس بیان کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس میں انہوں نے ایران کے مقابلے میں امریکی پوزیشن کو "تحقیر آمیز" قرار دیا تھا۔ گارڈین کے مطابق ایسی صورتحال بعض اوقات بڑی طاقتوں کو مزید جارحانہ اقدامات کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
اخبار نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ کیوبا کی فوجی طاقت ایران کے مقابلے میں محدود ہے، تاہم وہاں کے عوام ممکنہ بیرونی مداخلت کے خلاف مزاحمت کے لیے تیار ہیں۔ مضمون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کیوبا پر دباؤ بڑھانے کا مقصد ملک میں ایسے حالات پیدا کرنا ہو سکتا ہے جن کے نتیجے میں عوام کسی بھی متبادل انتظام کو قبول کرنے پر مجبور ہو جائیں۔
گارڈین کے مطابق کیوبا کے خلاف کسی بھی ممکنہ کارروائی کا مقصد آزادی یا جمہوریت کا فروغ نہیں بلکہ ایران کے معاملے میں مبینہ ناکامی کے اثرات کو زائل کرنا اور معاشی مفادات کا حصول ہو سکتا ہے۔ مضمون میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایسی کسی جنگ کے فوائد امریکی سرمایہ دار طبقے کو حاصل ہوں گے جبکہ اس کے منفی اثرات کیوبا کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑیں گے۔
آپ کا تبصرہ